وقت کی بچت کریں—بس بولیں اور یہ خود بخود لکھتا جائے گا۔ اپنی آواز کو تحریر میں بدلیں، دستاویز کی صورت محفوظ کریں، کاپی کریں اور جہاں چاہیں استعمال کریں۔ یہ آسان، تیز اور مؤثر ٹول خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے ہے جو کمپیوٹر پر طویل ٹائپنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ چاہے آپ کو پیپر تیار کرنا ہو یا کتاب لکھنی ہو، اب سب کچھ ممکن ہے صرف چند منٹوں میں۔
الفاظ: 0 | حروف: 0
چنیوٹ کے علمی و ادبی گاؤں محمد والا میں، رائے محمد یار کے گھر ایک ایسی شخصیت نے جنم لیا جو آج علم، ادب اور اصلاح کے میدان میں روشن ستارے کی مانند چمک رہی ہے۔ ابنِ محمد یار کی زندگی محنت، لگن اور تبدیلی کے عزم کی ایک ایسی داستان ہے جو ہر دل کو متاثر کرتی ہے۔ ان کے والد نے بچپن سے ہی ان کی فطری صلاحیتوں کو جلا بخشی اور ان کے دل میں علمی جستجو کا بیج بویا۔ بدقسمتی سے، محض تیرہ برس کی عمر میں وہ اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو گئے، لیکن اس قلیل عرصے میں ان کے والد نے جو فکری ورثہ عطا کیا، وہ ان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ بن گیا۔
والد کے بعد ان کی والدہ نے، جو رسمی تعلیم سے محروم تھیں مگر فکری بصیرت کی مالک تھیں، ان کی تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ ان کی حکمت اور محبت نے ابنِ محمد یار کو ایک عظیم انسان بننے کی راہ دکھائی۔
قلم سے ان کا رشتہ بچپن سے ہی گہرا تھا۔ لکھنا ان کا شوق نہیں، بلکہ ایک جذبہ تھا جو ان کے دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا تھا۔ مختلف موضوعات پر قلم اٹھانا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا۔ آج وہ ایک ممتاز معلم، ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات، مترجم، مصنف، بلاگ رائٹر، یوٹیوبر اور مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ گورنمنٹ ہائی اسکول میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہوئے وہ علم کو وہ طاقت سمجھتے ہیں جو فرد اور قوم کو ترقی کی منزلوں تک لے جا سکتی ہے۔
انہیں اردو اور انگریزی پر عبور حاصل ہے، جبکہ عربی اور فارسی میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلسفہ، تاریخ، سائنس، تصوف، نفسیات اور الہیات جیسے گہرے موضوعات پر ان کے تراجم کی بدولت ان کی شہرت سرحدوں سے باہر پھیل چکی ہے۔ ان کی درجنوں کتب پاکستان اور ہندوستان سے شائع ہوئیں، جبکہ کئی کتب ایمیزون پر عالمی سطح پر دستیاب ہیں۔ نوائے وقت جیسے معتبر جریدوں میں ان کے کالمز نے قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی۔
تعلیمی اصلاحات کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا تعلیمی نظام جہالت، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کا حل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے جدید، مؤثر اور عملی بنایا جائے۔ ابتدا میں تدریس کے شوق کے باوجود، نظامِ تعلیم کی خامیوں نے انہیں مایوس کیا۔ انہوں نے نوکری چھوڑنے کا سوچا، مگر پھر عزم کیا کہ وہ نظام کے اندر رہ کر اسے بدلیں گے۔ رٹا سسٹم اور فرسٹ، سیکنڈ، تھرڈ پوزیشن کے کلچر نے بچوں میں حسد، خودغرضی اور مقابلہ بازی کو فروغ دیا۔ اسے ختم کرنے کے لیے انہوں نے تعاون، ہمدردی اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیا۔ انہوں نے روایتی لیکچر کی بجائے طالب علم کو مرکز بنایا، جہاں استاد ایک رہنما اور سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے بچوں میں اعتماد، تعاون اور تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھیں۔ ایک سادہ سی سرگرمی، جیسے ایک لائن پر کہانی لکھنے کی، نے بچوں میں دلچسپی اور خود اعتمادی کو بیدار کیا۔
ان کی ان اصلاحات کو ملک بھر میں پذیرائی ملی، حتیٰ کہ وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے ان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اور پانچ طلبا کو ترکی کے تعلیمی دورے پر بھیجنے کا اعلان کیا اور سکول کی ضروریات کے لیے 25 لاکھ روپے کے فنڈ کا اعلان کیا۔
صحت کے شعبے میں بھی وہ قدرتی علاج کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید ادویات علامات کو دباتی ہیں، لیکن بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے آیورویدک، ہومیوپیتھک اور ہربل طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ وہ لوگوں کو صحت مند زندگی کے راز سکھاتے ہیں تاکہ بیماریاں سرے سے جنم ہی نہ لیں۔ نفسیات اور انسانی ذہن کو سمجھنے میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ وہ انسانی رویوں، جذبات اور سوچ کی گہرائیوں کو سمجھ کر ذہنی و روحانی نشوونما پر زور دیتے ہیں۔
ان کا ایمان ہے کہ ترقی کی کنجی کتابوں میں پوشیدہ ہے۔ دوسروں کے تجربات اور علم سے سیکھ کر ہم غلطیوں سے بچ سکتے ہیں اور کامیابی کی راہ تیز کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت وہ عالمی علمی سرمائے کو اردو میں منتقل کر رہے ہیں تاکہ اردو دان طبقہ بھی جدید تحقیق سے مستفید ہو۔ ان کے کام کی گونج پاکستان سے باہر تک پھیل چکی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ ان کے قلم میں برکت عطا فرمائے، ان کے علم و فکر میں اضافہ کرے اور انہیں تشنگانِ علم کے لیے ہمیشہ روشنی کا مینار بنائے۔ آمین!